You are reading a tafsir for the group of verses 16:103 to 16:105
ولقد نعلم انهم يقولون انما يعلمه بشر لسان الذي يلحدون اليه اعجمي وهاذا لسان عربي مبين ١٠٣ ان الذين لا يومنون بايات الله لا يهديهم الله ولهم عذاب اليم ١٠٤ انما يفتري الكذب الذين لا يومنون بايات الله واولايك هم الكاذبون ١٠٥
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٌۭ ۗ لِّسَانُ ٱلَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِىٌّۭ وَهَـٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّۭ مُّبِينٌ ١٠٣ إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ ٱللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ١٠٤ إِنَّمَا يَفْتَرِى ٱلْكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰذِبُونَ ١٠٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

مکہ میں کچھ عجمی غلام تھے۔ ان کے نام تفسیر کی کتابوں میںحیر، یسار، عائش، یعیش وغیرہ آئے ہیں۔ اس ضمن میں سلمان فارسی کا نام بھی لیا گیا ہے جو بعد کو مسلمان ہوگئے۔ یہ غلام یا یہودی تھے یا نصرانی۔ اس بنا پر وہ قدیم آسمانی مذاہب، یہودیت اور نصرانیت کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ ان میں سے کسی کی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ اس طرح کی ملاقاتوں کو بنیاد بنا کر قریش کے لیڈروں نے کہا کہ ’’یہی عجمی لوگ محمد کو کچھ باتیں بتا دیتے ہیں اور وہ ان کو خدائی کلام بتا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں‘‘۔

یہ مضحکہ خیز بات انھوں نے کیوں کہی۔ اس کی وجہ وہی عام برائی ہے جو ہر زمانہ میں اور ہمیشہ دنیا میں پائی گئی ہے۔وہ ہے— اپنے ہم عصر کو میرٹ کی سطح پر نہ پہچاننا۔ قریش کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک معاصر شخصیت تھے، اس لیے وہ آپ کو پہچاننے اور آپ کی قدر کرنے میں ناکام رہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ جو لوگ معاصرانہ نفسیات کے فتنہ میں مبتلا ہوں وہ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ حق کو مان لینے کے بجائے یہ کرتے ہیں کہ حق کے علم بردار کے خلاف جھوٹی باتیں گھڑتے رہتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی حقیقتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر داعی کی شخصیت کو بدنام کرتے ہیں۔ وہ اسی میں مشغول رہتے ہیں، یہاں تک کہ مرکر خدا کی پکڑ کے مستحق بن جاتے ہیں۔