اِس آیت میں ’’حد سے گزر جانے والا‘‘ان لوگوں کو کہاگیا ہے جن کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک بار اگر وہ حق کا انکار کردیں تو اس کے بعد وہ اس کو اپنی ساکھ کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور پھر اس کو مسلسل نظر انداز کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں ان کا علم دین اور ان کا برسر حق ہونا مشتبہ نہ ہونے پائے۔
جو لوگ اس قسم کا رویہ اختیار کریں ان کو دنیا میں یہ سزا ملتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ یعنی خدا کے قانون کے تحت ان کی نفسیات دھیرے دھیرے ایسی بن جاتی ہے کہ بالآخر حق کے معاملہ میں ان کا شدتِ احساس باقی نہیں رہتا۔ ابتداء ً ان کے اندر جو تھوڑی سی حساسیت زندہ تھی وہ بھی بالآخر مردہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتے کہ حق اور ناحق کے معاملے میں تڑپیں اور ناحق کو چھوڑ کر حق کو قبول کرلیں۔ حضرت نوح اور ان کے بعد آنے والے بیشتر رسولوں کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔
اللہ کی طرف سے جب بھی کوئی داعیٔ حق آتاہے تو وہ اس حال میں آتاہے کہ اس کے گرد کسی قسم کی ظاہری عظمت نہیں ہوتی۔ اس کے پاس جو واحد چیز ہوتی ہے وہ صرف دلیل ہے۔ جو لوگ دلیل کی زبان میں حق کو مانیں وہی داعیٔ حق کو مانتے ہیں۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ دلیل کی زبان انھیں متاثر نہ کرسکے وہ داعیٔ حق کو پہچاننے سے بھی محروم رہتے ہیں اور اس کا ساتھ دینے سے بھی۔