You are reading a tafsir for the group of verses 10:61 to 10:65
وما تكون في شان وما تتلو منه من قران ولا تعملون من عمل الا كنا عليكم شهودا اذ تفيضون فيه وما يعزب عن ربك من مثقال ذرة في الارض ولا في السماء ولا اصغر من ذالك ولا اكبر الا في كتاب مبين ٦١ الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون ٦٢ الذين امنوا وكانوا يتقون ٦٣ لهم البشرى في الحياة الدنيا وفي الاخرة لا تبديل لكلمات الله ذالك هو الفوز العظيم ٦٤ ولا يحزنك قولهم ان العزة لله جميعا هو السميع العليم ٦٥
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍۢ وَمَا تَتْلُوا۟ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍۢ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ وَلَآ أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْبَرَ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍۢ مُّبِينٍ ٦١ أَلَآ إِنَّ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٦٢ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ ٦٣ لَهُمُ ٱلْبُشْرَىٰ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَـٰتِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ٦٤ وَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ ۘ إِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ۚ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٦٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

دعوت اس دنیا کے تمام کاموںمیں مشکل ترین کام ہے۔ داعی اپنے پورے وجود کو دعوتی عمل میں شامل کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی پیغام کا داعی بن سکے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ وہ ہے جو مخاطبین کی طرف سے پیش آتاہے۔

داعی جب خدا کے دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرتاہے اور اس کو کھلے دلائل کی زبان میں مبرہن کردیتاہے تو وہ تمام لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتا کر دین دار بنے ہوئے ہوں یا دینی پیشوائی کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد پروپیگنڈا، سازشیں، حتی کہ جارحانہ کارروائیاں، ہر چیز کو وہ اپنے لیے جائز کرلیتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی انھیں موقع دیتی ہے اور وہ داعی کے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ دلیل کی طاقت تمام تر ایک طرف ہوجاتی ہے اور مادیات کی طاقت تمام تردوسری طرف۔

یہ صورت حال بلا شبہ بے حد سخت ہے۔ اس کے بعد ایک طرف یہ ہوتاہے کہ مخالفین حق کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف داعی پر بھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیا خدا اس معاملے میں غیر جانب دار ہے۔ کیا وہ مجھے حق وباطل کے اس معرکہ میں ڈال کر خود علیحدہ ہوگیا ہے۔

مگرایسا نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا حق کا ساتھ نہ دے۔ مخالفین کا بے دلیل ہوجانا اور دلیل کی قوت کا تمام تر داعی کی طر ف ہونا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا داعی کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے گروہ کے ساتھ۔ کیوں کہ دلیل موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے جس کے ساتھ دلیل ہے اس کے ساتھ گویا خدا ہے۔ مخالفینِ حق کو جارحیت کا موقع صرف اس آزادی کی وجہ سے مل رہا ہے جو امتحان کی خاطر انھیں دی گئی ہے۔ امتحانی دنیا کے ختم ہوتے ہی یہ صورت حال بدل جائے گی۔ اس وقت عزت وبرتری اس کے لیے ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا تھا۔ جو لوگ دلیل سے خالی تھے وہ وہاں کی دنیا میں رسوا اور ناکام ہو کر رہ جائيں گے۔ اللہ کے سچے داعیوں کا گروہ خداکے دوستوں کا گروہ ہے۔ اللہ ان کو آخرت میں ایک ایسی اعلیٰ زندگی کی خوش خبری دیتا ہے جہاں نہ انھیں پچھلی زندگی کے لیے کوئی پچھتاوا ہوگا اور نہ اگلی زندگی کے لیے کوئی اندیشہ۔