آیت 50 قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوْ نَہَارًا مَّاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُوْنَ یعنی یہ جو تم سینہ تان کر کہتے ہو کہ لے آؤ عذاب ! اور پھر کہتے ہو کہ آ کیوں نہیں جاتا ہم پر عذاب ! اور پھر استہزائیہ انداز میں استفسار کرتے ہو کہ یہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہونے جا رہا ہے ؟ تو کبھی تم لوگوں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے کہ اگر وہ عذاب کسی وقت اچانک تم پر آہی گیا ‘ رات کی کسی گھڑی میں یا دن کے کسی لمحے میں ‘ تو اس سے حفاظت کے لیے تم نے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ آخر تم لوگ کس بل بوتے پر عذاب کو للکار رہے ہو ؟ کس چیز کے بھروسے پر تم اس طرح جسارتیں کر رہے ہو ؟