You are reading a tafsir for the group of verses 10:37 to 10:39
وما كان هاذا القران ان يفترى من دون الله ولاكن تصديق الذي بين يديه وتفصيل الكتاب لا ريب فيه من رب العالمين ٣٧ ام يقولون افتراه قل فاتوا بسورة مثله وادعوا من استطعتم من دون الله ان كنتم صادقين ٣٨ بل كذبوا بما لم يحيطوا بعلمه ولما ياتهم تاويله كذالك كذب الذين من قبلهم فانظر كيف كان عاقبة الظالمين ٣٩
وَمَا كَانَ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ ٱلْكِتَـٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٣٧ أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٣٨ بَلْ كَذَّبُوا۟ بِمَا لَمْ يُحِيطُوا۟ بِعِلْمِهِۦ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٣٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قرآن اپنی دلیل آپ ہے، قرآن کا مافوق انداز کلام انتہائی طورپر ناقابل تقلید ہے، اور یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک غیر انسانی کلام ہے۔ اگر وہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو یقیناً دوسرے انسانوں کے لیے بھی یہ ممکن ہونا چاہیے تھا کہ وہ اپنی کوشش سے ویسا ہی ایک کلام بنا لیں۔

قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ وہ ان پیشین گوئیوں کی تصدیق ہے جو اس کے بارے میں پہلے سے آسمانی صحیفوں میں موجود ہیں۔ آسمانی تعلیمات کی حامل قومیں پہلے سے ایک آخری ہدایت نامہ کی منتظر تھیں۔ قرآن اسی انتظار کا جواب بن کر آیا ہے، پھر اس میں شک کرنے کی کیا ضرورت ۔ مزید یہ کہ وہ ’’کتاب‘‘ کی تفصیل ہے۔ یعنی وہ الٰہی تعلیمات جو تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ ہیں انھیں کو وہ صحیح اور بے آمیز روپ میں پیش کرتاہے۔ یہ ایک واضح قرینہ ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ قرآن اسی خدا کی طرف سے آیا ہے جس کی طرف سے پچھلی آسمانی کتابیں آئی تھیں۔

جب کوئی شخص کہتا ہے کہ قرآن ایک انسانی تصنیف ہے تو وہ اپنی دعوے کو ایک ایسے میدان میں لاتا ہے جہاں اس کو جانچنا آسان ہو۔ کیوں کہ وہ اپنی یاد دوسروں کی انسانی صلاحیتوں کو کام میں لاکر قرآن جیسی ایک کتاب یا اس کے جیسی ایک سورہ تیار کرسکتاہے۔ اور اس طرح عملی طورپر اس دعوے کو رد کرسکتا ہے کہ قرآن خدائی ذہن سے نکلی ہوئی کتاب ہے۔ مگر قرآنی چیلنج کے باوجود کسی کا ایسانہ کرسکنا آخری طورپر ثابت کررہا ہے کہ قرآن کو انسانی کتاب کہنے والوں کا دعویٰ درست نہیں۔قرآن کی صداقت کے یہ دلائل ایسے نہیں ہیں کہ آدمی ان کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کو جھٹلانے کے نتائج سے وہ بے خوف ہیں۔ ان کو یہ ڈر نہیں کہ قرآن کا انکار کرکے وہ کسی عذاب کی پکڑ میں آجائیں گے ان کی مخالفانہ روش کی وجہ وہ غیر سنجیدگی ہے جو ان کی بے خوفی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، نہ کہ کسی قسم کا عقلی اور استدلالی اطمینان۔