۞ ولو يعجل الله للناس الشر استعجالهم بالخير لقضي اليهم اجلهم فنذر الذين لا يرجون لقاءنا في طغيانهم يعمهون ١١
۞ وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ ١١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

گھوڑا ایک نہایت وفادار جانور ہے۔ وہ اپنے مالک کے لیے اپنے آپ کو آخری حد تک قربان کردیتا ہے، حتی کہ جنگ کے میدان میں بھی وہ اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ یہ گویا ایک علامتی مثال ہے جو انسان کو بتاتی ہے کہ اسے کیسا بننا چاہيے۔ انسان کو بھی اپنے رب کا اسی طرح وفادار بننا چاہيے جیسا کہ گھوڑا انسان کا وفادار ہوتا ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیں۔

اس دنیا میں جانور اپنے مالک کا شکر گزار ہے مگر انسان اپنے رب کا شکر گزار نہیں یہاں جانور اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے مگر انسان اپنے رب کا حق نہیں پہچانتا۔ یہاں جانور اپنے مالک کی اطاعت میں سرگرم ہے۔ مگر انسان اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم نہیں۔

انسان اسی جانور کی قدر کرتا ہے جو اس کا وفادار ہو۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اس راز کو نہ جانے کہ خدا کے یہاں وہی انسان قابلِ قدر ٹھہرے گا جو خدا کی نظر میں اس کا وفادار ثابت ہو۔ مگر مال کی محبت اس کو اندھا بنا دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی حقیقت کو جاننے سے محروم رہتا ہے جس کا وہ خود اپنے قریبی حالات میں تجربہ کرچکا تھا۔